Home / تازہ ترین / شاہ عالم

شاہ عالم

ان کا اصل نام علی گوہر تھاجبکہ تاریخ انھیں شاہ عالم دوئم کے نام سے جانتی ہے۔ شاہ عالم سولہویں مغل شہنشاہ تھے۔ شاہ عالم شہزادہ عزیزالدین (عالمگیر دوئم) کے بیٹے تھے، آپ کی ولادت 25جون1728کو ہوئی۔ آپ نے اپنا بچپن اپنے والد کے ساتھ دہلی میں موجود لال قلعہ میں قائم بادشاہوں کیے قید خانے میں نیم قید کی حالت میں گزارا، تاہم انھوں نے کٹھن بچپن کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور بعد ازاں کئی اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔ اپنے والد کے شہنشاہ ببنے پر شاہ عالم مغل سلطنت کے ولیِ عہد بنے۔

شاہ عالم کے والد ”عالمگیر دوئم“ کو ”فیروز جنگ سوئم“اور مراٹھا پشوا کے بھائی ”سداشیوراؤ بھاؤ“ کی طرف سے مغل شہنشاہ مقرر کیا گیا تھا جس نے بعد ازاں ان کی حکومت پر قبضہ کر کے انھیں قتل کروا دیا تھا اور ان کے بیٹے شاہ عالم کو قید میں ڈال دیا تھا۔ شاہ عالم میں قید کی حالت میں اپنی ایک چھوٹی سی فوج تیا ر کی اور قید سے فرار ہوگئے۔ اس کے بعد 1759میں انھوں نے مشرقی صوبوں کا رخ کیا وہاں ان کی امید تھی کہ بنگال، بہار اور ادیشا پر قبضہ کر کے اپنا اختیار مضبوط کریں۔ 1760تک شاہ عالم نے بڑی جنگیں لڑیں اور بنگال، بہار اور ادیشا پر قبضہ کر لیا۔ شاہ عالم میں کئی مشرقی صوبوں کی طرف پیش قدمی کی اور کئی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ وہ دور تھا جب برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی بھی ہندوستان میں اپنے قدم مضبوط کر رہی تھی۔ 1761میں مشرقی صوبوں میں کئی خطرناک جنگیں لڑی گئیں، جن میں پٹنا، سیر پور، بیر پور اور دیوان کی جنگیں مشہور ہیں۔ ان جنگوں کے بعد امن کی خواہش میں شاہ عالم نے بنگال کے نواب میر قاسم سے ملاقات کی۔ جنہیں پچھلے نواب کی اچانک موت کے بعد چند ماہ قبل ہی نواب بنایا گیا تھا۔ قاسم کو جلد ہی مغل سلطنت کی طرف سے سرمایہ کاری ملنا شروع ہوگئی اور انھیں بنگال، بہار اور ادیشا کا صوبیدار کا درجہ دے دیا گیا۔ قاسم کا مغل سلطنت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو جانے کے بعد شاہ عالم الہ باد کی طرف چلے گئے اور وہاں اودھ کے نواب شجاع الدولہ کے پاس پناہ حاصل کی، اور 1761سے1764تک ان کی پناہ میں رہے۔
کچھ عرصہ بعد میر قاسم اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین حالات خراب ہوئے تو میر قاسم بنگال سے فرار ہوگئے، انھوں نے ہی بعد ازاں نواب شجاع الدولہ اور شاہ عالم کو برطانوی افواج کے خلاف لڑنے پر حوصلہ افزائی کی اور سراہا۔ شاہ عالم کو مغل سلطنت کا واحد اور صحیح حقدار تصور کیا جاتا تھا اور کئی راجہ ان کے نام پر لڑ رہے تھے۔

شاہ عالم نے برطانوی افواج اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے کئی خطرناک اور تاریخی جنگیں لڑیں، یہ جنگیں سات سال تک لڑی جاتی رہیں۔ باکسار کی جنگ مشہور ترین جنگ ہے جو 22اکتوبر1764کو بنگال میں دریائے چنگیز کے قریب لڑی گئی، یہ ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ تھی جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی(برطانوی افواج) کی جیت ہوئی۔ شاہ عالم کو اس وقت مغل سلطنت کا شہنشاہ مانا جا چکا تھا۔ جنگ کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ شروع کیا تو مغل سلطنت چھوٹی ہوتے ہوتے دہلی تک محدود رہ گئی، اور پھر شاہ عالم کو دہلی سے بارہ سال کے لیے شہر بدر کر دیا گیا، اور ان کے بیٹے کو ان کی جگہ دہلی کا راجہ مقرر کر دیا گیا۔

اس کے بعد 1770میں بنگال میں آنے والے قحط نے مغل سلطنت کے برصغیر میں مکمل خاتمے عندیا دے دیا۔ اس قحط کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ مغل سلطنت اب برصغیر کی سیاسی یا معاشی طاقت نہیں رہی۔
شاہ عالم کو مراٹھا جنرل مہادجی شندے اپنی افواج کے ساتھ1772میں دہلی میں لے کر آئے۔ اس وقت پورے ہندوستان سے مغل سلطنت کا خاتمہ ہو چکا تھا، صرف دہلی مغل سلطنت کا حصہ تھا، اس وقت ایک فارسی کہاوت مشہور تھی کہ ”سلطنتِ شاہ عالم، از دلی تا پالم“ یعنی ”شاہ عالم کی بادشاہت دہلی سے پالم تک ہے“ پالم دہلی کا مضافاتی علاقہ ہے۔
شاہ عالم کو شاعری کا بھی شوق تھا، انھوں نے دلی میں رہتے ہوئے شاعری کی۔ان کا دیوان شائع کیا گیا اور انھوں نے اپنی شاعری میں ”آفتاب“ کا تخلص استعمال کیا۔ ان کی نظموں کی مرزا فاخر مکین نے ہدایت کاری کی، مرتب کیں اور مجموعہ کیا۔

شاہ عالم کی 19نومبر1806کو دہلی میں قدرتی وجوہات کی بنا پر موت واقع ہوئی۔ انھیں دہلی میں ہی دفنایا گیا۔

Check Also

اہلیہ فاطمہ پر تشدد ، محسن عباس نے جواب دے دیا

عروف گلوکار و اداکار محسن عباس نے اہلیہ کی جانب سے خود پر لگائے جانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *