Home / Uncategorized / شاہ فیصل

شاہ فیصل

فیصل بن عبدالعزیز السعود 14اپریل1906 کو اس وقت کے نجد امارات کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے، ان کو دنیا ’’شاہ فیصل ‘‘ کے نام سے جانتی ہے اور ان کی یاد میں دنیا کے کئی ممالک میں ان کے نام کی یادگاریں موجود ہیں ۔ شاہ فیصل سعودی عرب کے بادشاہ تھے، ان کی بادشاہت کا دور 1964سے لے کر 1975تک رہا ۔ شاہ فیصل نے اپنے والد شاہ عبدالعزیز سے تربیت حاصل کی اور وہ ایک با اثر شاہی سیاست دان کے طور پر ابھرے ، انھوں نے سعودی عرب میں جدت لانے کے لیے اور سعودی عرب کی ترقی کے لیے بہت اہم کام کیے ۔ 

شاہ فیصل ریاض میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والد شاہ عبدالعزیز کے تیسرے بیٹے تھے ۔ شاہ فیصل کی والدہ 1912 میں انتقال کر گئیں جب شاہ فیصل صرف چھ سال کے تھے، شاہ فیصل کی ایک سگی بہن تھیں جن کا نام ’’ نوراہ‘‘ تھا، ان کی شادی ان کے کزن خالد سے کی گئی ۔ 

Shah Faisal

’’ہیلن چیپن میٹز‘‘ کے مطابق شاہ فیصل اور ان کی نسل کے اکثر بچوں کی ایسے ماحول میں تربیت کی گئی تھی جہاں بہادری کی بہت اہمیت تھی اور بچوں کو جرءت مند بنایا جاتا تھا، اور خاص طور پر شاہ فیصل کو ان کی والدہ نے قبائلی اقدار کے فروغ کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی، یہ ان کی ماں کی تربیت کا حصہ تھا کہ شاہ فیصل قبائلی اقدار کی پاسداری کریں اور ان کے فروغ کے لیے ہر ضروری کام کریں ۔ 

شاہ فیصل کم عمری سے ہی کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور کئی اہم ذمہ داریاں ادا کیں ۔ 

1919 میں برطانوی حکومت کی طرف سے شاہ عبدالعزیز کو سرکاری دورے پر بلایا گیا، شاہ عبدالعزیز نہ جا سکے، انھوں نے اپنی جگہ شہزادہفیصل کو بھیجا ۔ یہ سعودی عرب کی طرف سے برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ تھا، شہزادہ فیصل نے پانچ ماہ برطانیہ میں قیام کیا، اسی دوران وہ فرانس کے سرکاری دورے پر بھی گئے، یہ سعودی عرب کی طرف سے فرانس کا بھی پہلا سرکاری دورہ تھا ۔ اپنے والد کے بڑے بیٹوں میں سے ہونے کے ناطے شہزادہ فیصل کو اہم ذمہ داریا ں ادا کی گئیں ، انھیں سعودی زمین میں عبدالعزیز کی بادشاہت اور اختیار کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری دی گئی، اور چھ ہزار جنگجوءوں کے ساتھ اندرونِ سعودی عرب بھیجا گیا، کہ باغیو ں کو ختم کیا جائے ۔ 1926 میں حجاز پر شاہ عبدالعزیز کے قبضہ کے بعد شہزادہ فیصل کو حجاز کا وائسراے مقرر کیا گیا ۔ 1930 میں شہزادہ فیصل کو ان کے والد شاہ عبدالعزیز کا وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا گیا، وہ یہ ذمہ داری اپنی وفات تک نبھاتے رہے، انھوں نے اپنی بادشاہت کے دوران بھی یہ عہدہ اپنے پاس ہی رکھا، تاہم 1960 سے1962تک دو سال کا عرصہ انھوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا ۔ شہزادہ فیصل نے اپنی وزارت کے تحت کئی بار یورپ کے دورے کیے، انھوں نے سوویت یونین کا حصہ ہونے کے ناطے روس 1933 میں روس کا دورہ بھی کیا ۔ 1934 میں سعودی عرب اور یمن کے مابین لڑی جانے والی جنگ میں شہزادہ فیصل نے ایک مہم کے سالار تھے، جسے انھوں نے چلایا تھ،یہ مہم کامیاب رہی ۔ اوراس جنگ میں سعودی عرب کی جیت ہوئی ۔ 

1953 میں شہزادہ فیصل کے بڑے بھائی شاہ سعود سعودی بادشاہ بنے اور انھوں نے شہزادہ فیصل کو ولیِ عہد بنایا ۔ سعودی شاہی خاندان کی طرف سے دباءو پڑنے پر شاہ سعود نے شہزادہ فیصل کو 1958 میں سعودی وزیرِ اعظم بھی بنا دیا ۔ شہزادہ فیصل اور شاہ سعود کے مابین مختلف امور پر شدید مخالفت رہی جس کے نتیجے میں شہزادہ فیصل مستعفی بھی ہوگئے تھے، تاہم انھوں نے اپنا عہدہ واپس حاصل کر لیا تھا ۔ شہزادہ فیصل اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے شاہی اور مذہبی سطح پر بہت پسند کیے جاتے تھے اور انھیں بڑی حمایت حاصل تھی ۔ 

شہزادہ فیصل نے 1963 میں سعودی عرب کا وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے ملک میں پہلا ٹی وی سٹیشن قائم کروایا، انھوں نے 1961 میں مدینہ میں اسلامی یونیورسٹی آف مدینہ کی بنیاد رکھی، 1962 میں انھوں نے غریب مسلمان ملکوں اور عوام کی مدد کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کے قیام میں مدد کی، اور اب تک سعودی شاہی خاندان اس لیگ میں اربوں ڈالر عطیہ کر چکا ہے ۔ 

شاہ فیصل نے سعودی عرب میں جدت لانے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے ۔ انھوں نے 1962 میں سعودی عرب میں غلامی (غلام رکھنے کو)کو غیر قانونی قرار دے دیا اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب سے غلامی کے خاتمے کا آغاز ہوا ۔ 

شہزادہ فیصل نے 1964 میں شاہی خاندان کے با اثر لوگوں اور سعودی مفتیِ اعظم کے ذریعے شاہ سعود کو قائل کیا کہ وہ بادشاہت چھوڑ کر شہزادہ فیصل کے حوالے کر دیں ۔ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوئے اور شاہ سعود نے شہزادہ فیصل کے حق میں بادشاہت چھوڑ دی ۔ 

Shah Faisal of Saudi Arabia

شاہ فیصل نے جدیدیت اور اصلاحات کے لیے نئی پالیسیاں دیں ، انھوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلافت کی بات کی، وہ اینٹی کمیونزم تھے، اور فلسطین کے حق میں تھے ۔ انھوں نے فلسطینیوں کی حمایت کی اور یورپ کی رف سے اسرائیل کو ملنے والی امداد اور حمایت کی شدید مخالفت کی، انھوں نے 1973 میں تیل کا بائیکاٹ کیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں تیل کا بحران آگیا ۔ انھوں نے سعودی عرب میں کامیابی سے سلطنت کی ایک بہترین بیوروکریسی قائم کی، انھیں ان کے اقدامات کی وجہ سے سعودی سلطنت میں بہت پزیرائی ملی ۔ عوام میں ان کی مقبولیت تھی اور انھیں ہر حلقے کے لوگ پسند کرتے تھے ۔ 

تاہم اتنی مقبولیت کے باوجود بھی ان کے کئی مخالفین موجود تھے ۔ شاہی خاندان میں بھی ان کی مخالفت موجود تھی ۔ 

شاہ فیصل 1964 میں سعودی بادشاہ بنے اور 1975 میں اپنی وفات تک سعودی بادشاہ رہے ۔ 1975 میں شاہ فیصل کو ان کے بھتیجے فیصل بن مسید نے قتل کر دیا ۔ تمام مسلم دنیا میں اس دن سوگ منایا گیا ۔ 

Check Also

انوشکا شرما

انوشکا شرما ایک بھارتی اداکارہ اور فلم ساز ہیں جو ہندی فلموں میں کام کرتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *