Home / انٹرنیشنل / ایران 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی چند وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا

ایران 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی چند وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے نمائندے نے کہا ہے کہ اب ایران پر پابندی نہیں رہی ایران ابھاری تابکاری والی یورینیم اور بھاری پانی کی پیداوار کر سکتا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ایران سرکاری طور پر جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کیے گئے 2015 کے معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ابھی ہم چند وعدوں سے پیچھے ہٹے ہیں، ممکن ہے کہ اس معاہدے سے مکمل طور پر نکل جائیں۔ ایران کا یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہے، کہ ایران جوہری ہتھیاروں کو بنانے اور یورینیم کی پیدا وار سے باز رہے گا۔

ایران نے پچھلے ہفتے اس معاہدے کا حصہ عالمی طاقتوں چین، روس، فرانس، جرمنی اور یونائیٹڈ کنگڈم کو پیغام دیا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیاروں ا کے اس معاہدے کے چند وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے، اور اگر ایران سے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے گئے تو ایران اس معاہدے سے مکمل طور پر نکل جائے گا۔ امریکہ بھی اس معاہدے کا حصہ تھا تاہم امریکہ پچھلے سال اس معاہدے سے نکل گیا تھااور ایران پر عالمی تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی تھی، اور ایران پابند تھا کہ کم تابکاری والی یورینیم پیدا کرے، ایران نے جس پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تابکاری والی یورینیم پیدا کر کے اسے اپنی معیشت بہتر کرنے کے لیے دوسرے ممالک کو فروخت کریں گے، اور اپنے لیے سٹور بھی کریں گے۔

ایران نے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کا حصہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ختم کروائی جائیں، ایران نے عالمی طاقتوں کو 60 دان کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ پابندیاں ختم نہ کروائی گئیں تو ایران اس معاہدے سے مکمل طور پر نکل جائے گا۔

اس معاہدے کا حصہ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا ہے جس کے بعد ان سب کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ سب چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کیا گیا جوہرے معاہدہ قائم رہے، لیکن وہ ایران سے دھمکیاں نہیں لیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ کو بدمعاشی کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

ایرانی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ایران اس معاہدے کا خاتمہ نہیں چاہتا، اس معاہدے کو جاری رکھنا چاہتا ہے، اور معاہدہ جاری رکھنے کے لیے کچھ تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔

ایرانی سپریم لیڈر خمینی نے کہا کہ ہم ان مسائل کی وجہ سے امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ہم دوبارہ امریکہ سے جوہری معاہدہ نہیں کریں تاہم وہ اس معاہدے پر قائم باقی عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، اگر وہ امریکی پابندیوں کے معاملے میں ایران کا ساتھ دیں تو۔

Check Also

ایپل کے نئے آئی فون 11 کی پاکستان میں قیمت کیا ہوگی؟تفصیل اس خبرمیں

میں ایپل کے نئے آئی فون 11 کی پاکستان میں قیمت کیا ہوگی؟تفصیل اس خبر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *