Home / Uncategorized / افغانستان میں امن کی امید، طالبان اور امریکہ کے مابین دوریاں کم ہونے لگیں

افغانستان میں امن کی امید، طالبان اور امریکہ کے مابین دوریاں کم ہونے لگیں

طالبان نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کے امریکی وفد سے مذاکرات جاری ہیں، اور ان مذاکرات کے نتائج خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی وفد سے افغانستان میں جنگ بندی اور قیامِ امن کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، اور امید ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے جلد رخصت ہوجائیں گی۔ امریکی وفد کیے طالبان سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں جہاں طالبان کا سیاسی دفتر بھی موجود ہے۔

دوحہ میں موجود طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی وفد اور طالبان دونوں کی طرف سے امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان کے انخلا پر نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جسے انھوں نے افغانستان میں جاری 18 سالہ جنگ کے خاتمے کی ایک کڑی بتایا ہے۔

”یہ تجاویز دونوں (امریکہ اور طالبان) کے مابین دوریاں ختم کریں گی، لیکن کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ابھی مزید مذاکرات کی ضرورت ہے“۔ سہیل شاہین، ترجمان طالبان نے کہا

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین یہ مذاکرات پچھلے سال سے جاری ہیں، جن کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا، تا ہم دوحہ میں جاری حالیہ مذاکرات سے اچھی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں اطراف سے افغانستان میں جنگ بندی اور امریکی افواج کے انخلا کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

طالبان کا مطالبہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کو ختم کریں اور افغانستان سے چلے جائیں۔ جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ افغان سرزمین کبھی کسی دہشتگرد تنظیم کے ہاتھوں استعمال نہ ہو، اور افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ختم کر دیا جائے۔

افغانستان میں 14,000 امریکی فوجی موجود ہیں، جن کے انخلا کے لیے امریکہ نے ڈیڑھ سال کا وقت دیا تھا، طالبان نے کہا تھا کہ یہ افواج چھ مہینے میں افغانستان سے رخصت ہو جائیں۔ حالیہ جاری مذاکرات میں دونوں اطراف سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان اور امریکی وفد کے مابین دوریاں کم ہو رہی ہیں اور کوئی معاہدہ ہونے کا امکان ہے، جس سے افغانستان میں جنگ بندی اور قیامِ امن کی امید ہے۔

خفیہ ذرائع سے میڈیا کو بتایا گیا کہ طالبان کمانڈرز جو اس وقت امریکی افواج سے جنگ کر رہے ہیں وہ امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی ہونے کی صورت میں لڑائی بند نہیں کریں گے، امن کی امید اسی صورت میں ہے کہ امریکہ اپنی افواج واپس بلا لے۔ کیونکہ افغان طالبان کا ماننا ہے کہ اگر انھوں نے لڑائی بند کر دی اور امریکہ اپنے معاہدے سے پیچھے ہٹ کر پھر سے لڑنے لگا تو طالبان کے لیے دوبارہ جنگ شروع کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

Check Also

شاہ فیصل

فیصل بن عبدالعزیز السعود 14اپریل1906 کو اس وقت کے نجد امارات کے شہر ریاض میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *